Who is Real Blasphemer ? Samson Tariq

426

لو ایک اور سزاوار ٹھہرا

ایک سال پہلے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جوزف کالونی بادامی باغ کے مسیحی نوجوان ساون مسیح اور اُس کے ایک مُسلم دوست شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون مسیح پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا۔ اور الزام یہ تھا کہ اُس نے جھگڑے کے دوران پیغمبرِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا کیے تھے۔

883171_623897484293948_1640117965_o
نتیجے میں وہ تو گرفتار ہُوا ہی لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اس واقعے پر مشتعل ہو کر ہزاروں افراد نے لاہور کی مسیحی آبادی جوزف کالونی پر دھاوا بول دیا تھا۔ یہ حملے دو دن تک جاری رہے تھے اور ان میں 125 سے زیادہ مکانات اور دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا اور یہ کالونی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔


ان حملوں میں دو گرجا گھروں کو بھی توڑ پھوڑ کر کے بعد میں آگ لگا دی گئی تھی جس سے انھیں بھی نقصان پہنچا تھا اور بائبل مُقدس ، انجیلِ مُقدس ، زبُور کی کتابوں اور دیگر اشیأ کو راکھ کر دیا گیا تھا اور اِن حملوں میں نامزد 43 افرد کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے ـ جبکہ ایک عدالت نے توہینِ رسالت کے ملزم مسیحی نوجوان ساون مسیح کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ اور سزائے موت کے ساتھ دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے اور اگر وہ یہ جرمانہ ادا نہیں کر پاتا تو پھر اسے چھ ماہ قید کاٹنی ہوگی۔

مسیحیوں کا اب یہ کہنا ہے کہ گھر بھی ھمارے جلیں ٬ چرچ بھی ھمارے جلیں اور سزائےموت بھی ساون مسیح کو یہ کہاں کا انصاف ھے یہ کہاں کا قانون ھے جو جوزف کالونی پر حملے کے مقدمے میں نامزد 43 افرد کو ضمانت پر رہائی دے دیتا ہے ـ ’’ ساون مسیح کے والد چمن مسیح نے کہا کہ ’آج رہائی کا دن تھا۔ وہ کہتے تھے سب ٹھیک ہے لیکن شام کو انھوں نے فون کر کے فیصلہ سنایا۔ جب انھوں نے میرے بچے پہ ناجائز الزام لگایا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے، جھوٹ ہے۔ ‘‘ میرے بیٹے نے ایسا کُچھ ہر گِز نہیں کہا اور کیا ـ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اُسے معلُوم ہے کہ ایسا کُچھ کہنے یا کرنے کا نتیجہ کیا نِکلتاہے ـ

جی ہاں یہ تو پُوری دُنیا جانتی ہے اور پاکستان میں رہنے والے اقلیتی افراد جِن میں مسیحیوں ، ہندوؤں اور سِکھوں کو اِس کے نتائج کے طور پر بڑے بڑے نُقصانات اُٹھانے پڑے ہیں ـ احمدی حضرات بھی بڑے تلخ تجربات رکھتے ہیں ـ حالیہ دِنوں میں لاڑکانہ میں جو کُچھ ہُوا کیا وہ کِسی سے ڈھکا چھُپا ہے ـ تو کون ایسی حرکت کرے کہ جِس سے نہ صِرف کہ اُس کی اپنی ذات کو نُقصان ہوگا اُس کا خاندان تباہ ہوگا بلکہ اُس کی ساری برادری کو اُن کی عبادت گاہوں ، چرچوں ، مندروں اور گُردواروں کو ملیا میٹ کر دیا جائے گا ـ تباہ کر دیا جائے گا ، مِسمار کر دیا جائے ، اُن کے سروں سے چھت چھین لی جائے گی ، اُن کی جمع پُونجی لُوٹ لی جائے گی ، اُن کی بچیوں کے جہیز کی چیزیں اُٹھالی جایئں گی ، اُنھیں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبُور کر دیا جائے گا ، اُن کی کوئی آواز سُننے والا نہیں ہوگا ، اُن کا

کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوگا تو کون ، کون ایسی جرّات کرے گا کہ وہ توہینِ مذہب کرے یا گُستاخیٔ کرنے کی ہِمت کرے ـ کیا اُس کے سامنے ماضی قریب میں گوجرہ اور شانتی نگر میں بھی ایسے واقعات پیش آ نے والے نہیں ہونگے ـ لیکن آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے۔ بلکہ جب جب اِس طرح کا کوئی واقعہ ہُوا اِس کا خمیازہ بھی اُسی پارٹی ، کمیونٹی یا گروہ یا خاندان یا فرد کو ہی اُٹھانا پڑا ـ کھیل تماشہ کرنے والے کھیل تماشہ کر کے چلے گئے ، آگ لگانے والے آگ لگا کر نِکل گئے ـ نہ کِسی کا کُچھ بِگڑا نہ ہُوا نُقصان ـ بِگڑا تو صِرف مُلک کا ، نُقصان ہُوا تو مُلک کا ـ آئے دِن کے ایسے واقعات نے اور ردِ عمل نے مُلکی ساکھ کوبالکُل تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ـ

مُلک ایسی باتوں کی بِنا پر دیگر مُمالک سے دُوری پر نِکلتا جا رہا ہے ـ اب تنہائی کی صُورتِ حال بنتی ہُوئی نظر آتی ہے ـ اب تو یہ سمجھنا بھی مُشکل لگتا ہے کہ اِس مُلک میں کبھی روا داری اور برابری یا مساوات ہو سکتی ہے ـ نہیں نہیں یہ وہ قائداعظم کا پاکِستان نہیں رہا ہے جِس میں اُنھوں نے سب کی مذہبی آزادی کی بات کی تھی اور کہا تھا ’’ کہ اُن کا اِیمان اور یقین ہے کہ مذہب اور ذات کبھی بھی کِسی ایک پاکِستانی کو دوُسرے سے الگ نہیں کر سکے گی اور نہ کر سکتی ہے ـ آپ بھلے کِسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں نسل یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں ـ آپ سب شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں اِس مملکتِ خُداداد کے ـ

آپ آزاد ہیں اپنی مساجد میں جانے کےلئے ـ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے اور آپ آزاد ہیں اپنی دیگر عبادت گاہوں میں جانے کے لئے ـ گورنر جنرل بننے کے فوراّ بعد اُنھوں نے اِس نئی معرضِ وجُود میں آنے والی مملکت کے لوگوں سے کہا تھا ـ پر اب کِسے یاد ہیں یہ ساری باتیں ـ کتابوں میں سے بھی آہستہ آہستہ اِنھیں حذف کیا جا رہا ہے بلکہ کافی حد تک کیا جا چُکا ہے ـ

۱۴ جنوری اُنیس سو پینتالیس کو اُنھوں نے ایک کانفرنس میں کہا کہ تعلیم ہماری قوم کے لیئے جینےمرنے کی کیفیت ہوگی کیونکہ دُنیا بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اگر ہم تعلیم کے شعبے میں پیچھے رہ گئے تو ہماری بقا مُشکل ہوگی ـ اُن کے نزدیک تعلیم اور تعمیرِ کِردار ساتھ ساتھ چلتے ہیں ـ ایک اور کانفرنرس میں جو ستائیس نومبر اُنیس سو سینتالیس میں کراچی میں ہُوئی اُنھوں نے تعلیم پر بات کرتے ہُوئے کہا کہ تعلیم صِرف اسکولوں ، کالجوں اور یُونیورسٹیوں سے حاصِل شُدہ ہی نہیں بلکہ کِردار لوگوں کا کِردار بھی تعمیری طور پر ضرُور اور لازم ہے ـ یہاں نہ تو

صاحبِ کِردار مُلک چلانے والے مُلک کو میسر آسکے اور نہ ہی کِسی نے یہ کوشش کی کہ قوم کو اعلیٰ صاحبِ کردار بنا دے ـ یوُں جب اِس طرح کے لوگ اور اعلیٰ حُکام اِس مُلک میں ہونگے تو اِس کے عدم برداشت کے واقعات رُونما ہونےسے کوئی نہیں روک سکتا ـ ضرورت ہے کہ مُلک میں پھیلنے والی اِس روش کو کنٹرول کیا جائے عوامی سطح پر بھی اور اِنتظامی سطح پر بھی تاکہ وہ غریب اور پس ماندہ طبقہ جو ایسی زیادتی کا اور ظُلم کا شکار ہوتا ہے وہ بھی مُلک میں سُکھ کا سانس لے سکے ـ یا اِسے یُوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اپنی ذاتی لڑائیوں کو مذہبی لڑائی نہ بننے دیا جائے کہ اِس کا خمیازہ ساری کمیونٹی بھی بھُگتے اور پھِر سزاوار بھی اُس کمیونٹی کے فرد کو قرار دیا جائے ساون مسیح کو سزا سُنا کر یہ ثابت کیا گیا کہ ’’ لو ایک اور سزاوار ٹھہرا ‘‘ ـ
سیمسن طارق موڈیسٹو کیلیفورنیا